لال رومال والے صاحب مسجدنبوی شریف میں ایک حاجی کاتعویذ پکڑ کرپوچھ رہے تھے یہ کیا ہے؟ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 120 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



لال رومال والے صاحب مسجدنبوی شریف میں ایک حاجی کاتعویذ پکڑ کرپوچھ رہے تھے یہ کیا ہے؟
وہ کَہ رہا تھا:
اس میں قرآنی آیتیں لکھی ہیں ، جو شفا اور برکت کے لیے پہن رکھی ہیں !
اِس پرطنزیہ انداز میں کہتے ہیں :
قرآن پڑھنے میں شفا اور برکت ہے ، پہننے اورلٹکانےمیں نہیں ؛ تعویذ رسول اللہ نے کبھی نہیں پہنے یہ بدعت ہے ۔

میں نے کہا:
☀️ جناب! یہ جو قرآنی آیات مسجد نبوی کی دیواروں پر لکھی ہیں ،کیا یہ سنت ہیں؟ کیا رسول اللہﷺنے لکھیں؟
☀️ اللہ نے قرآن دیواروں پر لکھ کر برکت حاصل کرنے کے لیے اتاراہے یا تلاوت کرکے ہدایت حاصل کرنے کے لیے ؟
☀️ پھر آپ نے واش روموں کی سیڑھیوں پر سگریٹ نوشی کی حرمت پہ جو یہ آیت چسپاں کی ہے:
\\\" ویُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ \\\"
اور ( وہ نبیِ اُمی ) ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں ۔

☀ ️تو کیا نبی علیہ السلام نے سگریٹ نوشی بھی حرام فرمائی ؟
☀️ آپ کو کس نے اختیار دیا کہ اس آیت کو سگریٹوں کی حرمت پر چسپاں کریں ؟
☀️ کیا یہ بدعت سیئہ نہیں کہ آیت کو غیر محل میں ایسے معنی کے لیے بیان کیاجائے جس سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ؟؟

پھر کچھ نہ پوچھیے!!

بس یہ محاورہ دہرا لیجیے جو بڑے بوڑھے سناتے تھے:

\\\" پا نہ پڑھی ، وَخت نوں پھڑی \\\"

لقمان شاہد
1/7/2018