کون ہے وہ جو لکھے رتبۂ اعلےٰ ان کا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 187 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



کون ہے وہ جو لکھے رتبۂ اعلےٰ ان کا
وصف جب خود ہی کرے چاہنے والا ان کا

کیوں دل افروز نہ ہو جلوۂ زیبا ان کا
دونو ں عالم میں چمکتا ہے تجلی ان کا

نعمتوں کا ہے خزانہ در والا ان کا
دونوں عالم میں بٹاکرتا ہے باڑا ان کا

ایک عالم ہی نہیں والہ و شید ان کا
ہے خدا وند جہاں چاہنے والا ان کا

تشنگی دل کی بجھا دیتا ہے چھینٹا ان کا
خوان افضال پہ مہماں ہے زمانہ ان کا

سر بسر نور خدا ہے قد بالا ان کا
نور بھردیتا ہے آنکھوں میں اجالا ان کا

ملک و جن و بشر پڑھتے ہیں کلمہ ان کا
جانور سنگ و شجر کرتے ہیں چرچا ان کا

کون سی شے ہے وہ جس پر نہیں قبضہ ان کا
کعبہ وارض و سما عرش معلے ان کا

زندگی پاتا ہے کونین میں مردہ ان کا
دم بھرا کرتے ہیں ہر وقت مسیحا ان کا

حشر میں پل سے اتارے گا سہارا ان کا
بیڑیاں کٹنے کو کافی ہے اشارہ ان کا

مجھ سا عاصی نہ سہی کوئی مگر اے زاہد
جنسا شافع نہیں ہے مجھ کو وسیلہ ان کا

ذکر سے ٹیک لگی دل کو خدا یاد آیا
فکر سے ہوگیا آنکھوں کو نظارہ ان کا

بھیک لینے کو چلے آتے ہیں لاکھوں منگتا
جس نے جو مانگا دیا کام ہے دینا ان کا

چاند سورج شب اسریٰ میں مقابل ہی نہ تھے
منہ چھپا لیتے اگر دیکھتے تلوا ان کا

بوسے لیتا کبھی آنکھوں کو منور کرتا
ہاتھ آتا جو کہیں نقشِ کفِ پا انکا

آنکھ اٹھا کر نہ کبھی دیکھتے وہ جنت کی طرف
اک نظر دیکھ لیا جس نے مدینہ ان کا

جان و دل کرتیں فدا نقش قدم پہ ان کے
دیکھ لیتیں جو کبھی حسن زلیخا ان کا

حشر والے یہ کہیں دیکھ کے محشر میں مجھے
وہ چلا آتا ہے اک بندۂ شیدا ان کا

دی منادی نے ندا حشر میں اے مشتاقو
دیکھ لو آج کہ بے پردہ ہے جلوہ ان کا

سب مہینوں میں مبارک ہے ربیع الاول
جمعہ سے فضل میں برتر ہے دو شنبہ ان کا

میں رضا کا ہوں رضا ان کے تو میں ان کا ہوں
یوں ہی رکھے مجھے اللہ تعالیٰ ان کا

تجھ کو کیا فکر ہے بخشش کی جمؔیل رضوی
ہاتھ میں ہے ترے دامانِ معلّٰے ان کا