بابُل کی چُوڑیاں NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 109 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



مجھے بازار میں ایک بچی ملی ، جوبڑے غور سے چوڑیوں والی دکان کی طرف دیکھ رہی تھی ، میں نے سوچا شاید چوڑیاں لینا چاہتی ہے لیکن پیسے نہیں -

میں اس کے قریب گیا -

بیٹی ! آپ کون سی چوڑیاں پہنیں گی ؟

اُس نے میری بات کاکوئی جواب نہ دیا -

میں نے ایک چوڑی سیٹ اٹھاکر اسے پہنانا چاہا تو مجھے دکان دار نے کہا :

بھائی! یہ بچی چوڑیاں نہیں پہنے گی -

میں نے پوچھا کیوں؟

دکان دار: کچھ دن پہلے بم دھماکہ ہوا تھا ، جس میں اِس کے والد بھی مارے گئے -

وہ دراصل گھر سے اِسی کے لیے چوڑیاں لینے آئے تھے -
اِس نے شام تک بابا کاانتظار کیا لیکن بابا نہ آئے -

شام کے وقت اطلاع ملی کہ بم نے دیگر بے گناہوں کے ساتھ اُن کے بھی پرخچے اڑا دیے ہیں ؛ گھر میں صف ماتم بچھ گئی ، اِس نے والدہ سے پوچھا :

امی ! بابا جی ابھی تک میری چوڑیاں لے کر کیوں نہیں آئے ؟؟

ماں نے روتے ہوئے کہا بیٹی! وہ کبھی نہیں آئیں گے -

بیٹی: کیوں امی جان ؟

ماں: بیٹی وہ گھر کاراستہ بھول گئے ہیں -

یہ بچی خاموش ہوگئی ، اس کے بعد تین دن تک آتے جاتے مہمانوں کو دیکھتی رہی ، کوئی اِسے پیار کرتا تو کوئی آنسو بہاتا -

تیسرے دن ظہرکے وقت یہ میری دُکان پر آئی اور پوچھنے لگی :

چچا جان! آپ کے پاس میرے بابا چوڑیاں لینے آئے تھے ؟

میں سمجھ گیا اور میرے آنسو بہنے لگے -

بچی نے دوبارہ پوچھا :

چچا جان بتائیں ناں؟

میں نے اس کے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا :

بیٹی آتے ہی ہوں گے!

اُس دن سے لے کر آج مہینہ ہونے کو ہے ، یہ روزانہ آکر پوچھتی ہے -

چچا جان میرے بابا چوڑیاں لینے نہیں آئے!!

میں اسے کئی بار کَہ چکا ہوں ، گڑیا آؤ میں آپ کو چوڑیاں پہناؤں لیکن یہ نہیں مانتی ؛ کہتی ہے بابا چوڑیاں لائیں گے تو پہنوں گی..........💧💧💧

نہ جانے میرے وطن کی کتنی معصوم بچیوں نے بابُل کی چوڑیوں کا انتظار کیا ، لیکن.......... نہ بابل آیا ، نہ چوڑیاں !!


لقمان شاہد
https://www.facebook.com/qari.luqman.92